بلند فشارِ خون کا تدارک

انسانی دل کے دھڑکنے کے عمل سے جو خون پورے انسانی جسم میں گردش کرتا ہے وہ اسے مطلوبہ توانائی ، غذائیت اور آکسیجن مہیا کر رہا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنی روز مرہ زندگی کے امور خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ خون انسانی جسم میں گردش کے دوران شریانوں کی دیواروں پر دبائو ڈالتا ہے اور اس دبائو یا ٹکرانے کو بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ دبائو یا ٹکرائو کی یہ شدت اگر بڑھ جائے تو یہ حالت بلند فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کہلاتی ہے۔

 

بلڈ پریشر یا خون کے دبائو کو ناپنے کے لئے اس کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اور اسے ملی میٹر ز آف مرکری (mm Hg)کے ذریعے ناپا جاتا ہے اور دو عدد میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ یعنی جب بلڈ پریشر کی پیمائش ہوتی ہے تو اسے 120/80(mm Hg) لکھا جاتا ہے۔

 

پہلا عدد Systolic  ہوتا ہے اور یہ وہ سب سے بلند عدد ہوتا ہے جس پر بلڈ پریشر یا خون کا دبائو پہنچا ہوتا ہے جبکہ دوسرا عدد Diastolic  کہلاتا ہے جو سب سے نچلی سطح ہوتی ہے جس پر خون کا دبائو پہنچ سکتا ہے۔ نارمل بلڈ پریشر 120/80 سے نیچے ہوتا ہے۔ اگر خون کا دبائو کئی ہفتوں تک مسلسل 140/90یا اس سے زیادہ ہوتو ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہوسکتا ہے۔

 

ہائی بلڈ پریشر کے مریض عام طور پر اپنے آپ کو بیمار محسوس نہیں کرتے۔ لیکن یہ بلند فشارِ خون دل ، خون کی شر یا نوں یا نسوں اور دوسرے جسمانی اعضاء کو خراب یا بیمار کر رہا ہوتا ہے جو انسان کی صحت کے لئے بے حد خطرناک ثابت ہو کر صحت کے لئے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دل کی دھڑکنوں کو بند کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے اور دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب دل کو خون پہچانے والی نسیں بند ہو جاتی ہیں یا پھٹ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہائی بلڈپریشر انسانی گردوں کے لئے بھی بے حد نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور یہ گردوںکو خون فراہم کرنے والی شریانوں یا نسوں کو خراب کرکے گردوں کی مختلف بیماریوںکا سبب بنتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر دماغ کو خون پہنچانے والی نسوں کو بند کرکے فالج کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جبکہ بلندفشارِ خون کی وجہ سے پیروں کی خون کی نسیں تنگ ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان میں خون کا بہائو مشکل ہو جاتا ہے اور چلنے پھرنے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

 

ہائی بلڈپریشر کی کوئی مخصوص ظاہری علامات نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے اسے خاموش قاتل (Silent Killer) بھی کہا جاتا ہے۔ بعض افراد میں طویل عرصے تک بلند فشار خون میں مبتلا رہنے کے باوجود کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی مگر کچھ افراد میں سردرد، آنکھوں میں دھندلاہٹ، چکر آنا، قے محسوس ہونا، سانس کی آمدورفت میں تکلیف اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔ یہ تمام علامات ہائی بلڈپریشر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

 

اس کے علاوہ وہ افراد جو دیگر مختلف امراض مثلاََ ذیابیطس، گردوں کے امراض، ہائی کولیسٹرول یا تھائرائیڈ کے امراض میں مبتلا ہیں، تو ان میں بھی ہائی بلڈپریشر کا مرض موجود ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر خاندان میں ہائی بلڈپریشر کا مریض پہلے سے موجود ہو تو باقاعدگی سے معائنہ کروانا لازمی ہے جس سے انسان مستقبل میں پیش آنے والے سنگین مسائل سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

 

ہائی بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے متوازن خوراک اور صحت مند سرگرمیاں بہت ضروری ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جیسے جیسے انسان کا وزن بڑھتا جاتا ہے ویسے ہی بلڈپریشر بھی بڑھتا جاتا ہے جبکہ وزن میں کمی کی وجہ سے بلڈپریشر بھی اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وزن میں کمی کی وجہ سے بلڈپریشر میں استعمال ہونے والی ادویات کا بھی فائدہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وزن حد کے حساب سے ہونا زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ حد سے زیادہ وزن میں کمی بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ وزن کو نارمل حالت میں رکھنے کے لئے ورزش یا جسمانی سرگرمی ایک لازمی جزو ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ہفتے میں چار سے پانچ دن تک تقریباً تیس سے ساٹھ منٹ کی ورزش سے بلڈپریشر 4 سے 9فیصد تک کم ہو سکتا ہے اور ورزش کے ساتھ ساتھ ایک متوازن اور صحت مند خوراک کو اپنے کھانوں میں شامل رکھنا چاہئے۔ نیشنل ا نسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایسی غذائیں جن میں سوڈیم کی شرح کم ہو، ہائی بلڈپریشر میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہیں۔ باہر کے کھانوں اور گھر میں فریز کئے گئے کھانوں کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے کیونکہ زیادہ عرصے تک محفوظ رکھے ہوئے کھانوں میں کاربو ہائیڈ رٹیس اور سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے۔

 

غذا میں اناج، پھلوں، سبزیوں اور کم چکنائی والی مصنوعات کے ساتھ پوٹاشیئم کی حامل خوراک کو شامل رکھنا چاہئے۔ کیلا جس میں سوڈیم کی شرح کم جبکہ پوٹاشیئم سے بھر پور غذاہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف دوسے تین کیلوں کے استعمال سے ہائی بلڈپریشر کو دس فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹماٹر جو کہ لائیکو پین Lycopaneنامی مادے سے بھرپور ہوتا ہے، ہائی بلڈپریشر کو کم کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ کی غذا میں 25 ملی گرام لائیکو پین کو شامل کرنے سے ہائی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو دس فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔ کھانے میں نمک کی مقدار کم سے کم استعمال کرنی چاہئے۔

 

 حالیہ ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے دہی اور ڈیر ی کی دیگر مصنوعات کھانے میں استعمال کرنے والے افراد میں بلڈپریشر نارمل رہتا ہے۔ مچھلی، آلو، پالک اور لوبیا وغیرہ کے استعمال سے بلند فشار خون کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ان سب میں سوڈیم کی شرح کم ہوتی ہے۔

 

کیفین کے حامل مشروبات کے استعمال سے انسانی جسم کا بلڈپریشر اچانک بڑھ جاتا ہے جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر وقت ذہنی دبائو میں رہنے والے افراد بھی اس ہائی بلڈپریشر کی بیماری سے دوچار رہتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے دفتری ا مور میںروزانہ تقریباً پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے تک مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ذہنی دبائو بڑھتا ہے جو ہائی بلڈپریشر کا باعث بنتا ہے۔

 

ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈپریشر کے حامل افراد اگر اٹھارہ سے بیس ہفتوں تک روزانہ 25 سے تیس کیلو ریز ڈارک چاکلیٹ کھائیں تو بلڈپریشر کی سطح بیس فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جو افراد کچھ ہفتوں تک مسلسل روزانہ تین سے چار کپ ہر بل چائے کا استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہائی بلڈپریشر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کے لئے چقندر کاجوس بے حد فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس میں موجود نائٹریٹس چوبیس گھنٹوں میں بلڈپریشر کو کم کر دیتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ہر ہفتے ایک کپ اسٹرابیریز یا بلیو بیریز استعمال کرنے سے ہائی بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

 

طبی ماہرین کے مطابق نماز ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کے لئے ایک بہترین علاج ہے۔ تحقیق کے مطابق وضو کے دوران جب چہرہ، کہنیوں تک ہاتھ اور پائوں دھوتے ہیں اور سر کامسح کرتے ہیں تو رگوں میں دوڑنے والے خون کی رفتار نارمل ہو جاتی ہے جس سے انسان سکون محسوس کرتا ہے اور اعصابی نظام پر بے حد اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے دماغ کوآرام ملتا ہے۔


مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اورمختلف اخبارات کے لئے لکھتی ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!


Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP